23 اکتوبر 2017 - 16:22
حماس رہنماؤں کا دورہ ایران شیعہ ہلال کی تشکیل پانے کی افواہوں کے دم توڑنے کی علامت ہے: خرازی

نامور ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنماؤں کا دورہ ایران اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں شیعہ اتحاد یا ہلال کی تشکیل کے قیام کی افواہیں سراسر بے بنیاد ہیں جبکہ ہماری اصل ترجیح صہیونیوں کا مقابلہ کرنا ہے.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نامور ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے رہنماؤں کا دورہ ایران اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں شیعہ اتحاد یا ہلال کی تشکیل کے قیام کی افواہیں سراسر بے بنیاد ہیں جبکہ ہماری اصل ترجیح صہیونیوں کا مقابلہ کرنا ہے.

یہ بات اسلامی جمہوریہ ایران کی خارجہ پالیسی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ ڈاکٹر 'سید کمال خرازی' جو سابق وزیر خارجہ بھی رہ چکے ہیں نے پیر کے روز تہران میں حماس تنظیم کے نائب سربراہ 'صالح العاروری' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران مظلوموں کی حمایت کرنے کے لئے شیعہ یا سنی فرق نہیں رکھتے بلکہ ہمارا اصل مقصد ناجائز صہیونی ریاست کے خلاف مقابلہ کرنا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں مظلوموں کی پشت پناہی کرنا ایران کی بنیادی پالیسی کا اہم جز ہے اور جیسا کہ فلسطین دنیا کی مظلوم ترین قوموں میں سے ہے اس لئے ایران میں اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد مسئلہ فلسطین ہمیشہ ایران کی اصل ترجیح میں شامل ہے.

خرازی نے کہا کہ گزشتہ برسوں سے صہیونیوں نے خطے میں شیعہ ہلال تشکیل پانے کے نام پہ سر توڑ سازشیں کیں مگر یہ بے نقاب ہوچکی ہیں کیونکہ ہم شیعہ یا سنی کے درمیان فریق نہیں رکھتے بلکہ ہمارا اصل مقصد صہیونیوں کا مقابلہ کرنا ہے.

نامور ایرانی سفارتکار نے مزید کہا کہ حماس رہنماؤں کے دورہ ایران سے صہیونیوں کی سازشیں بے نقاب ہونے کی واضح علامت ہے.

انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ مزاحمتی فرنٹ میں شریک ممالک فلسطین کی آزادی کے لئے متحد ہوں.

اس ملاقات میں حماس کے نائب سربراہ نے کہا کہ حماس وفد کے دورہ ایران کا مقصد باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرنا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ حماس تنظیم کو ھتھیار پھیکنے، ناجائز صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے یا اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنا ہرگز منظور نہیں ہے.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲